بنگلورو،3؍جنوری(ایس او نیوز) سینئر جے ڈی ایس لیڈر اور سابق رکن اسمبلی وائی ایس وی دتہ نے کہا ہے کہ مخلوط حکومت میں صرف لیڈروں کی طرف نہیں بلکہ دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔خاص طور پر جے ڈی ایس کو منظم کرنے کی کوششوں میں لیڈروں اور کارکنوں میں امتیاز نہیں برتا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے مرحلے میں جبکہ پارٹی آنے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے خود کو منظم کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ مخلوط حکومت میں پارٹی کارکنوں کو جو ترجیح دی جانی چاہئے وہ اسے یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ مخلوط حکومت میں صرف ایک طرف توجہ دینا انتہائی حساس ہوتاہے۔ ایسے میں دونوں پارٹیوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے کارکنوں کے جذبات کی قدر کریں اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے کی جدوجہدکریں۔
دتہ نے کہاکہ آنے والے دنوں میں صرف لوک سبھا انتخابات ہی نہیں بلکہ متعدد بلدی اداروں اور کارپوریشنوں کے انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ ان کی طرف بھی توجہ دے کر پارٹی کارکنوں کو مستعد کرنے کی ضرورت ہے۔ دتہ نے کہا کہ ریاست میں مخلوط حکومت اس نیک نیتی کے ساتھ قائم ہوئی ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کو کچلا جائے۔ ملک کے سیاسی منظر نامے میں کرناٹک نے ایک نئی تاریخ بنائی ہے۔اس تاریخی روایت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری کانگریس اور جے ڈی ایس دونوں کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست میں پہلی مخلوط 1983 میں بائیں پارٹیوں اور آزاد اراکین کی تائید سے قائم ہوئی تھی۔ اس کے بعد دھرم سنگھ اور کمار سوامی نے مخلوط حکومت بنائی۔ اب کانگریس اور جے ڈی ایس مل کر کمار سوامی کی قیادت میں حکومت چلا رہے ہیں۔ مخلوط حکومت کے تاریخی حقائق کی بنیاد پر انہوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دونوں پارٹیاں اگر ایک دوسرے کے کارکنوں کے مطالبات کو پورا کرنے پر توجہ دیں تو حکومت میں انتشار کو کافی حد تک روکا جاسکتا ہے۔